آزاری[1]
قسم کلام: صفت نسبتی ( واحد )
معنی
١ - روگی، مریض، بیمار۔ خود اپنا مسیحا ہے الفت میں وہ آزاری جس نے سم قاتل کو اک تلخ دوا جانا ( ١٩٢٦ء، فغان آرزو، ٥٧ )
اشتقاق
فارسی مصدر(لازم) 'آزردن' سے 'آزاریدن' تعدیہ ہے اور 'آزاریدن' سے 'آزار' حاصل مصدر ہے اور 'آزار' کے ساتھ فارسی قاعدہ کے مطابق 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'آزاری' بنا۔ سب سے پہلے ١٨٠١ء میں "مادھونل اور کام کندلا" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: آزردن